قاتل کا سراغ
ایک سراب بھرے آبشار کے قریب ایک شہر واقع تھا جو اپنی خوبصورتی اور عجیب طبیعت کے لئے مشہور تھا۔ لوگوں کے لئے یہ ایک پریشان کن مقام تھا کیونکہ اس میں غمزدہ راز چھپا ہوا تھا جو بابا زامیندار نے چھوڑا تھا۔ ایک افسر پولیس جس کا نام عادل تھا، اس راز کو حل کرنے کے لئے آیا۔
عادل نے شہریوں سے معلومات جمع کیں اور بابا زامیندار سے ملاقات کے لئے دریارہ گرتے ابشار تک جانے کا فیصلہ کیا۔ یہاں تک کہنا ضروری ہے کہ عادل ایک شجاع اور ذہین پولیس افسر تھا، لیکن اس نے کبھی ایسا مقام نہیں دیکھا تھا جس کی صورتحال اتنی خاموشی سے بچائی گئی ہو۔
وقت نے گزرتے گزرتے عادل بابا زامیندار کے پاس پہنچا، جو ایک عجیب شخصیت تھا۔ وہ ایک عمر رسیدہ آدمی تھا جو لمبی داڑھی اور تاریک انداز رکھتا تھا۔ عادل نے بابا سے راز کے بارے میں پوچھا اور بابا نے بہت تھکتے ہوئے جواب دیا، "یہاں کے قدیم گھر کی چھت پر ہمیشہ سے ہی قتل کا راز چھپا ہوا ہے۔ کوئی قدیم دُشمن ہمارے خاندان کو قتل کرتا ہے اور ہم کوشش کرتے ہیں کہ راز کو پاک کریں۔ لیکن ہر بار ہمیں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔"
عادل نے اس سن کر تعجب کیا اور بابا کو وعدہ کیا کہ وہ راز کو حل کر کے رہے گا۔ وہ ایک دن پہلے ہی ایک دلچسپ معلومات حاصل کر چکا تھا جس کے مطابق قتل کار ہمیشہ کے لئے گمنامی میں چھپا رہتا تھا۔ اسکے علاوہ، قتل کے وقت ایک خونریز ریشہ ہمیشہ موجود ہوتا تھا جو قتل کے بعد نہایت تیزی سے مندرجہ ذیل کی طرف رفتار کرتا تھا۔
عادل نے اس معلومات کو دیکھ کر ایک خطرناک اور بے رحم قتل کار کی تصویر بنا لی۔ اس نے انجام تک کے لئے ایک پلان بنایا۔ وہ رات کو قدیم گھر پہنچا، جہاں ان خونریز ریشوں کا سراغ تھا۔
عادل نے رات کی تاریکی میں اپنی فلیش لائٹ چالو کی اور آہستہ آہستہ آگے بڑھنے لگا۔ وہ اچانک ایک چھپے ہوئے کمرے میں پہنچا، جہاں یہ قاتل کام رہتا تھا۔ وہ اپنی پولیس والی ٹوپی اتار کر غمزدہ قاتل کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہوا بولا، "بس کر! میں تمہیں پکڑ لوں گا۔"
تماشائیوں نے آنکھیں کھولیں اور عادل کے سامنے خود بابا زامیندار کھڑا ہوا۔ اس نے ٹوپی پہنی اور قاتل کا روپ لے لیا۔ بابا نے مسکرا کہا، "تم نے میری تعریف کی بنا پڑے میرے دشمن کو پکڑ لیا ہے۔"
عادل حیرانی سے بولا، "لیکن آپ قاتل کیوں ہیں؟ اور یہ خونریز ریشے کیسے بنا رہے ہیں؟"
بابا نے دلچسپ مسکانے سے جواب دیا، "میرے بیٹے، میں قاتل نہیں ہوں۔ ان خونریز ریشوں کا سرورگ میرے جسم کے اندر موجود ہوتا ہے۔ وہ قوت جو میری روح کو سکون دیتی ہے۔ میرا اندر یہی راز چھپا ہوا ہے جس کا تم نے پڑھ لیا ہے۔"
عادل اب واضح تھا کہ بابا زامیندار نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔ وہ اس راز کو گمنام رکھنے کے لئے ایسا کرتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اگر اسے عوام کو پتہ چل گیا تو لوگ اُس کے خوبصورت شہر کو ہراب کردیں گے۔
عادل نے اپنے پلان کو ناکام کر دیا تھا، لیکن اس کے پاس اب قصور واقع ہونے کا ثبوت تھا۔ اس نے بابا کو معافی مانگی اور شہر کے لئے ایک نئی آرام دہ زندگی کی شروعات کی۔
اس قصے کا سبق یہ ہے کہ ہمیشہ بادشاہی چیزوں کے پیچھے سچائی نہیں چھپتی۔ ہمیں سوچنا چاہئے کہ کبھی کبھی رازیں بہتر ہوتی ہیں جب ہم اُنہیں سامنے لاتے ہیں اور حقیقتوں کا سامنا کرتے ہیں۔
Comments
Post a Comment